Facebook Services Not Working

دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان

Asia Europe Home Latest Live Coverage Pakistan World

دنیا کے سب سے بڑے سوشل نیٹ ورک فیس بک کی سروسز نے ایک بار پھر عالمی سطح پر خلل کا سامنا کیا ہے، جس کے باعث لاکھوں صارفین کو اس پلیٹ فارم تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صارفین نے کمپیوٹر، موبائل اور دیگر ڈیوائسز پر فیس بک کے براوزر ورژن یا ایپ کو کھولنے میں ناکامی، لاگ ان ایرر، فیڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے اور میسجنگ جیسے فیچرز میں خرابی کے بارے میں رپورٹیں شیئر کی ہیں۔

عالمی سطح پر خرابی اور صارفین کی پریشانی

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف ممالک میں فیس بک کے ویب ورژن اور ایپ دونوں پر بڑی تعداد میں مسئلے رپورٹ ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ونڈوز کمپیوٹر استعمال کرنے والے صارفین نے بتایا کہ فیس بک ویب سائٹ تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی ہے اور انہیں “Something went wrong” جیسے پیغامات دکھائی دے رہے ہیں۔

اسی دوران انسٹاگرام جیسا کہ فیس بک کی ماتحت سروس بھی متاثر ہوئی، جس سے صارفین نے انسٹاگرام پر تبصرے، اسٹوریز اور پیغامات کے بروقت لوڈ نہ ہونے کی شکایات کیں۔ Downdetector جیسی سروسز نے اس مسئلے کی رپورٹنگ میں بڑے پیمانے پر اضافے کو نوٹ کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک مقامی برا نقصان لیکن ایک عالمی سرور/انفراسٹرکچر کا مسئلہ ہے۔

میٹا کے دیگر پلیٹ فارمز بھی متاثر

فیس بک کے علاوہ، میسینجر، انسٹاگرام اور دیگر Meta نیٹ ورک کے پلیٹ فارمز میں بھی صارفین نے متاثر ہونے کی شکایات درج کرائی ہیں۔ خاص طور پر میسج بھیجنے، تصاویر اپ لوڈ کرنے، اور ڈی ایمز پڑھنیکی صلاحیت متاثر ہوئی۔ Downdetector کے اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں صارفین نے اسی وقت انسٹاگرام اور میسینجر کے بارے میں وقفے وقفے سے رپورٹس کیں، جس نے ظاہر کیا کہ مسئلہ محدود طریقے سے نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔

بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صارفین نے اپنے اسٹریمنگ اور شیئرنگ فیچرز، جیسے کہ ریلز یا اسٹوریز، بھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پائے، جس سے اُنہوں نے اپنے بزنس یا مواد کی ترسیل میں رکاوٹ محسوس کی۔

پچھلے واقعات اور تاریخی پس منظر

فیس بک اور میٹا پلیٹ فارمز میں یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ سروس متاثر ہوئی ہو۔ 2024، 2023 اور اس سے قبل بھی متعدد بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابیوں یا سسٹم میں خرابیوں کی وجہ سے فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور میسنجر میں رکاوٹیں آئیں۔ Downdetector کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ 2024 میں فیس بک اور انسٹاگرام کا ایک بڑا عالمی آؤٹیج تھا جس میں 11.1 ملین صارفین نے مسائل کی رپورٹنگ کی تھی — جو اب تک کا سب سے بڑا آؤٹیج شمار کیا گیا۔

اسی طرح 2021 میں بھی تقریباً 6 گھنٹے تک فیس بک اور میٹا کے سبھی پلیٹ فارمز بند رہے، جس سے نہ صرف صارفین بلکہ کاروباری اور مارکیٹنگ کے شعبہ میں سرگرم افراد بھی متاثر ہوئے۔

امکان، وجوہات اور تکنیکی مسائل

میٹا نے ابھی تک عوامی طور پر اعلان نہیں کیا کہ موجودہ عالمی سروس ڈسٹرپشن کی وجہ کون سی خاص تکنیکی یا نیٹ ورک خرابی ہے۔ تاہم، Downdetector جیسی ویب سائٹس کے تجزیے کے مطابق، عموماً ایسے عالمی آؤٹیجز ڈیٹا سینٹر کنفیگریشن، سرور انفراسٹرکچر کے مسائل، یا DNS راؤٹنگ خرابیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جو پوری دنیا میں متعدد علاقائی سرورز سے منسلک ہوتے ہیں۔

تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیچیدہ نیٹ ورک سسٹمز میں چھوٹی غلطیاں بھی بڑی پیمانے پر خدمات کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے صارف کے لیے ویب سائٹ یا ایپ تک رسائی ناممکن ہو جاتی ہے۔

صارفین کا ردعمل اور متبادل استعمال

جب بھی فیس بک یا اس کے ماتحت پلیٹ فارمز ڈاؤن ہوتے ہیں، صارفین عام طور پر Twitter (اب X) اور TikTok جیسے پلیٹ فارمز پر جا کر اپنی تجربات، شکایات اور اسرار شیئر کرتے ہیں۔ کئی صارفین مزاحیہ پوسٹس اور میمز بھی تخلیق کرتے ہیں، جس سے اس خلل کے دوران ایک طرح کا سوشل میڈیا ‘سینس آف ہومر’ بھی سامنے آتا ہے۔

کچھ صارفین نے رپورٹ کیا کہ وہ عارضی طور پر VPN یا دیگر انٹرنیٹ طریقوں کے ذریعے فیس بک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بزنس کنندگان نے اپنے مواد کو دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ آن لائن موجودگی میں خلل نہ آئے۔

میٹا کی جانب ممکنہ بیان اور صارف رہنمائی

میٹا کی جانب سے عام طور پر آؤٹیج کے دوران ایک بیان جاری کیا جاتا ہے، جس میں کمپنی صارفین کو مسئلے کی تحقیقات اور جلد حل کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے۔ تاہم، بعض اوقات یہ بیان دیر سے سامنے آتا ہے جس سے صارفین مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔

متاثرہ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں، سروس اسٹیس پیجز اور Downdetector جیسی ٹولز پر صورتحال کی تازہ معلومات چیک کریں، اور متبادل کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کا استعمال جاری رکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *