ملک بھر کے صرافہ بازاروں اور زیورات فروشوں کے مطابق چاندی کی قیمتوں میں حالیہ شدید گراوٹ نے ان صارفین کو نقصان میں ڈال دیا ہے جو بازاروں سے کلو کے حساب سے چاندی خرید رہے تھے۔ سرمایہ کاروں اور عام خریداروں نے گزشتہ مہینوں میں چاندی خریدی تھی جس کے بعد مارکیٹ میں گرتی قيمتوں کی وجہ سے انہیں بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔
چاندی نے عالمی سطح پر گزشتہ سال اور شروع 2026 میں ایک بھرپور رالی دیکھی، جس نے اسے سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش بنایا تھا، تاہم اب قیمتوں میں اچانک گراوٹ نے صورتحال بدل دی ہے۔ کچھ تجزیہ کار تو اسے بازاروں میں قیاس آرائی کی وجہ سے آیا ہوا حباب بھی قرار دے رہے ہیں، جس کا نتیجہ شدید مندی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ قیمتوں کے زوال کی کئی وجوہات موجود ہیں، جن میں عالمی معاشی حالات، کرنسی کی طاقت، اور سود یا ڈالر کے مقابلے میں مضبوطی شامل ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو ڈالر میں قیمت شدہ اشیا، جیسے کہ چاندی، دیگر ممالک کے خریداروں کیلئے مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے عالمی طلب کم ہوتی ہے اور قیمتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔
اسی دوران، سرمایہ کاروں اور ریٹیل خریداروں نے صرافہ بازاروں میں بڑی مقدار میں چاندی خرید رکھی تھی، جو اب گرتی قیمتوں کی وجہ سے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ بہت سے لوگ توقع کر رہے تھے کہ چاندی مستقبل میں بھی قیمتوں میں بڑھتی رہے گی، لیکن مارکیٹ کی انتہائی اتار چڑھاؤ نے ان کی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
صارفین کے مطابق مقامی بازاروں میں چاندی کی قیمت پوری طرح سے عالمی مارکیٹ کے اثرات کی عکاسی نہیں کرتی، اور بہتری کے ساتھ ساتھ خریداروں پر اضافی پریمیم بھی عائد ہوتا ہے جس نے نقصان کو اور بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چاندی یا سونے جیسی قیمتی دھاتوں کی قیمت میں مقامی اور عالمی نرخوں میں فرق اکثر پریمیم، ٹیکس، اور ڈیمانڈ و سپلائی کے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اسی طرح صنعتی طلب بھی چاندی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی، سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیاں اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں چاندی کی مانگ بہت زیادہ ہے، مگر اس صنعت کی طلب میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے جس کا اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
عالمی مارکیٹوں میں چاندی کی قیمتوں میں حالیہ مندی خاص طور پر وہاں کی اتنی بڑی سپلائی اور گرتے ہوئے سرمایہ کار اعتماد کی وجہ سے ہے کہ انویسٹر سیلف یا ڈی آرڈ بیسڈ اثاثوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی مندی سے EZT اور دوسرے چاندی میں سرمایہ کاری کرنے والے فنڈز سے بھی رقم نکل رہی ہے، جس نے قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ مستقبل میں چاندی کی قیمتوں کا دارومدار عالمی معاشی حالات، صنعتی طلب، اور کرنسی مارکیٹ کی صورتحال پر ہوگا۔ جیسے جیسے عالمی شرح سود، اقتصادی نمو، یا ڈالر کی قدر تبدیل ہوگی، ان سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی۔ پاکستان میں بھی ڈالر کی قدر اور بین الاقوامی نرخ تبدیل ہونے کی وجہ سے مقامی صرافہ بازار کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
صارفین اور سرمایہ کاروں کیلئے ماہرین کی نصیحت یہ ہے کہ قیمتی دھاتوں، خصوصاً چاندی میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے بازار کی موجودہ حالت، عالمی اعداد و شمار، اور ممکنہ رسک کا بغور تجزیہ کریں تاکہ نقصان کے امکانات کم کیے جاسکیں۔
آخر میں، مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی کبھی کبھی طویل مدتی حفاظتی اثاثے کی طرح کام کرتی ہے، لیکن اس میں شدید اتار چڑھاؤ کی خصوصیت بھی موجود ہے جس کی وجہ سے شارٹ ٹرم سرمایہ کاروں کیلئے بڑا رسک موجود رہتا ہے۔

